ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / اردوٹیچروں کی بحالی پر مذاق کررہی ہے نتیش حکومت

اردوٹیچروں کی بحالی پر مذاق کررہی ہے نتیش حکومت

Fri, 05 Aug 2016 19:43:45    S.O. News Service

اُردو ٹی ای ٹی والوں کی جلد بحالی کرے ریاستی حکومت: نظرعالم

دربھنگہ ، 5 ؍اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )پچھلے سال سے لگاتار حکومت بہار نے اُردو ٹی ای ٹی کی بحالی کا مذاق بناکر رکھ دیا ہے۔ لگاتار اساتذہ سڑکوں پر اُتر کر آندولن کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ لیکن حکومت کے کان پرجوں تک نہیں رینگ رہا ہے۔ ابھی پچھلے دو تین دنوں کے اندر پٹنہ میں ٹی ای ٹی یونین کے لوگوں نے دھرنا دیا لیکن وزیرتعلیم کے پاس ان سے ملنے کے لئے وقت کی کمی دیکھی گئی۔ اس معاملے کو لیکر آل انڈیا مسلم بیداری کارواں نے قومی صدر نظرعالم کی صدارت میں ایک اہم نشست مقامی دفتر لال باغ دربھنگہ میں بلاکر پورے معاملے پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔نشست کے دوران مسٹر نظرعالم نے کہا کہ وزیراعلیٰ نتیش کمار تک معاملہ پہنچ چکا ہے اور مجھے ایسی اطلاع بھی ملی ہے کہ اقلیتی طبقہ کے ایم ایل اے اور وزیر نے وزیراعلیٰ نتیش کمار سے جلد بحالی کرانے کا مطالبہ کیا ہے جو ایک اچھا قدم ہے۔ یہی کام اگر ہمارے لیڈران پہلے کئے ہوتے تو شاید ان بے روزگار لوگوں کو کب کا روزگار مل گیا ہوتا۔ خیر ’’دیر آید درست آید‘‘ والی بات یہاں پر فٹ بیٹھتی ہے۔ مسٹر عالم نے کہا کہ وزیراعلیٰ نتیش کمار جب سے بہار میں وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھے ہیں تب سے ایسا لگنے لگا ہے کہ بہار کی دوسری سرکاری زبان کہی جانے والی اُردو کوختم کرنے کی سازش رچی جارہی ہے۔ جسے برداشت کرپانا مشکل ہے۔ کیوں کہ جناب نتیش کمار نہ تو اسکولوں میں اساتذہ کی بحالی کروارہے ہیں اور نہ ہی جہاں بہت سارے کالجو ں میں اُردو کے اساتذہ نہیں ہونے کی وجہ کر اُردو کی تعلیم نہیں ہوپارہی ہے اُس پر دھیان دے رہے ہیں۔ جب کہ اقلیتی طبقہ ہمیشہ نتیش کمار کو ایک طرفہ حمایت دیتا آرہا ہے۔ ساتھ ہی حکومت کی جانب سے نہ تو اقلیتی طبقہ کو کسی محکمہ میں نوکری کی بحالی نکالی جارہی ہے اور نہ ہی اقلیتی طبقہ کے کسی اچھے شخص کو بہار کے سیکڑوں بورڈ اورنگم ہے جس میں کسی عہدہ پر انہیں ترقیاتی کام کرنے کی ذمہ داری ہی دی جاتی ہے۔ اب ایسا لگنے لگا ہے کہ جناب نتیش کمار صرف پٹنہ تک ہی محدود ہوتے جارہے ہیں اور پٹنہ میں ہی حکومت کو سمٹ کر رکھ دیا ہے باقی کے ضلع پر سے ان کا دھیان اُٹھتا جارہا ہے۔ بیٹھک میں مسٹر عالم نے صاف طور پر کہا کہ اب بہت رونا رویا گیا ریاستی حکومت کے آگے۔ ہمیں بھیک نہیں ادھیکار چاہئے، تعلیم چاہئے، روزگار اور تحفظ چاہئے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو آل انڈیا مسلم بیداری کارواں اکتوبر 2016سے دلت ۔ مسلم اتحاد بناکر ریزرویشن کی مانگ کو لیکر آندولن شروع کرے گا۔ساتھ ہی اُردو اساتذہ کی جلد بحالی نہیں کی گئی اور جن لوگوں کا گریس کے نام پر پتہ صاف کردیا گیا ہے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا تو جس طرح سے گجرات میں پٹیل سماج اورہریانہ میں جاٹ سماج کے لوگوں نے سڑکوں پر اُترکر اپنے حقوق کی لڑائی لڑی ہے ٹھیک اُسی طرح سے اقلیتی طبقہ کے لوگ بھی آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کی قیادت میں حقوق کے لئے سڑکوں پر اُترے گا اور جب تک حقوق نہیں مل جاتا تب آندولن چلتا رہے گا۔ بیٹھک سے اکرم صدیقی، جاوید کریم ظفر، سرور علی فیضی، وجئے کمار جھا، پپو خان، مرزا نہال بیگ، شاہ عماد الدین سرور، اسعد رشید ندوی، حافظ حامد حسین، زبیر عالم، سمیع اللہ ندوی، محمد عرفات، محمد عصمت اللہ وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔


Share: